مولانا ڈاکٹر سعید الرحمان اعظمی ندوی اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز

شاہ اجمل فاروق ندوی

7 اکتوبر 2026 کو لکھنؤ سے یہ افسوس ناک خبر آئی کہ ملت اسلامیہ ہندیہ کی بزرگ ہستی اور عالمی شہرت یافتہ عالم دین مولانا ڈاکٹر سعید الرحمان اعظمی ندوی اس دنیا سے رخصت ہو گئے. إنا لله وإنا إليه راجعون. اس خبر پر دنیا بھر میں ماتم کیا گیا. عالمی شخصیات کے تعزیت نامے سامنے آئے. تعزیتی جلسوں کا سلسلہ چل پڑا. انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز میں بھی اس خبر پر رنج و غم کی لہر محسوس کی گئی. یہ لہر بے وجہ نہیں تھی. اس کی بنیاد میں برسوں پر محیط وہ روابط تھے جو انسٹی ٹیوٹ کے بانی چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم اور مولانا ڈاکٹر سعید الرحمان اعظمی ندوی کے درمیان قائم تھے.

بڑی شخصیات کی ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ بنیادی طور پر کسی ایک ادارے سے وابستہ تو ہوتی ہیں لیکن اُس ادارے میں محدود نہیں ہوتیں. اُن کا دائرہ وسیع ہوتا ہے. وہ اپنے زیر سایہ بہت سے اداروں کو لے کر چلتی ہیں. مولانا سعیدالرحمان اعظمی کا معاملہ بھی یہی تھا. انھوں نے اپنی پوری زندگی ندوۃ العلماء اور اس کے دارالعلوم کے لیے وقف کر رکھی تھی، لیکن اس کے ساتھ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، دارالعلوم دیوبند وقف، انٹیگرل یونی ورسٹی لکھنؤ، دینی تعلیمی کونسل اتر پردیش اور اس طرح کے متعدد اداروں سے وابستہ تھے. ان اداروں کے دائرۂ کار اور ضروریات کے لحاظ سے ان کو مستفید فرماتے رہتے تھے. یہی معاملہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے ساتھ تھا. وہ انسٹی ٹیوٹ کے بانی ڈاکٹر محمد منظور عالم اور ان کے کاموں کو بہت اہمیت دیتے تھے. اسی طرح ڈاکٹر محمد منظور عالم بھی مولانا کی شخصی عظمت اور بلندی کو اچھی طرح سمجھتے تھے. ان کی ذات کو امت کے لیے نفع بخش سمجھتے تھے. اس آپسی احترام اور اعتماد کا نتیجہ تھا کہ جب بھی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے مولانا کی خدمت میں کوئی درخواست پیش کی جاتی تھی، مولانا اس کو قبول فرماتے تھے اور انسٹی ٹیوٹ کی کوششوں کی تقویت کا باعث بنتے تھے.

ہمارے ریکارڈ کے مطابق مولانا سعیدالرحمان اعظمی ندوی نے انسٹی ٹیوٹ کے جن پروگراموں میں شرکت کی ہے وہ یہ ہیں:

1- "علامہ حبیب الرحمٰن اعظمی: حیات و خدمات" کے موضوع پر 6،7 جولائی 2019 کو کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں منعقدہ دو روزہ قومی کانفرنس میں افتتاحی خطبہ پیش کیا. انسٹی ٹیوٹ کے کسی پروگرام میں یہ اُن کی آخری شرکت تھی. اس کے فوراً بعد کورونا کی پر اسرار وبا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا.

2- "مولانا مناظر احسن گیلانی: حیات و خدمات" کے موضوع پر 1,2 دسمبر 2018 کو پٹنہ میں منعقد ہونے والی دو روزہ قومی کانفرنس میں خطبۂ افتتاحیہ پیش فرمایا۔ مولانا گیلانی کی وفات کو چھ دہائیاں گزرنے کے بعد اُن کی حیات و خدمات پر یہ پہلا قومی سمینار تھا. ندوہ اور مشاہیرِ ندوہ سے مولانا گیلانی کے گہرے روابط کی وجہ سے اس سمینار میں مرشد الامت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کا تفصیلی پیغام اور مولانا ڈاکٹر سعید الرحمان اعظمی ندوی کی باقاعدہ شرکت بہت اہمیت کی حامل تھی.

3- اسی سال "فنِ ترجمہ: مسائل اور امکانات" کے موضوع پر 29،30 جون 2018 کو انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی میں منعقد ہونے والے دو روزہ قومی ورک شاپ میں خطبۂ افتتاحیہ پیش کیا۔ مولانا نے عربی زبان و ادب کو اس انداز سے اپنا شعار بنایا تھا کہ وہ خود برصغیر میں عربی زبان و ادب کا شعار بن گئے تھے. اس لیے ترجمہ نگاری کے متعلق ہونے والے اس اس ورک شاپ میں اُن کی شرکت ضروری بھی تھی اور حسب توقع وقیع بھی ثابت ہوئی.

4- "اسماعیل راجی الفاروقی: حیات و خدمات" کے موضوع پر 20،21 اپریل 2018 کو سی آئی ٹی ہال، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں منعقد ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں خطبۂ افتتاحیہ پیش فرمایا۔ شہید اسماعیل راجی فاروقی کی شخصیت پر اس سے پہلے ہندستان میں کوئی پروگرام منعقد نہیں ہوا تھا. یہ پہلا موقع تھا کہ اردو دنیا میں فاروقی شہید کو خراج عقیدت پیش کیا جارہا تھا. اس عالمی کانفرنس میں بھی مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کے عالمانہ پیغام اور مولانا سعیدالرحمان اعظمی ندوی کے افتتاحی خطاب نے کانفرنس کی اہمیت و وقعت میں اضافہ کیا.

5- "معاصر ہندستان میں مساوات، عدل اور اخوت کی سمت: اسلامی مطالعات کے ذریعے ایک بہتر مستقبل کی تشکیل" کے موضوع پر مارواڑ مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے اشتراک سے جودھ پور، راجستھان میں منعقد ہونے والے دو روزہ قومی سیمینار میں افتتاحیہ خطاب پیش فرمایا۔ یہ سیمینار 20،21 اکتوبر 2017 کو منعقد ہوا تھا۔ مولانا کی تشریف آوری پر جودھ پور کی علمی و سیاسی حلقوں نے مسرت کا اظہار کیا.

6- "ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی علمی و فکری میراث اور عصرِ حاضر میں اس کی معنویت" کے موضوع پر منعقد ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس بہ طور مہمان اعزازی شرکت کی اور خطاب بھی فرمایا۔ یہ کانفرنس 17،18 فروری 2017 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سی آئی ٹی ہال میں منعقد ہوئی تھی۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا ندوۃ العلماء سے گہرا علمی رابطہ اور روحانی تعلق تھا. اس لیے ان کے متعلق منعقد ہونے والی کانفرنس میں مولانا اعظمی کی شرکت بہت معنی خیزی کی حامل تھی.

7- "بین المذاہب تفہیم کی اہمیت اور نوعِ انسانی کے لیے اس کے مضمرات" کے موضوع پر 24 ستمبر 2016 کو مگدھ ہونی ورسٹی، بودھ گیا میں منعقد ہونے والی اعلیٰ سطحی یک روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں اسلام کی نمائندگی فرمائی.

8- "اکیسویں صدی میں ہندستان اور عالمِ اسلام" کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں خطاب۔ یہ کانفرنس 15،16 فروری 2013 کو کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں منعقد ہوئی تھی۔

9- "فقہ الاقلیات" کے موضوع پر دارالعلوم فرنگی محل کے اشتراک سے لکھنؤ میں 17،18 اکتوبر 2009 کو منعقد ہونے والی دو روزہ عالمی کانفرنس میں افتتاحی خطبہ پیش کیا.

پروگراموں میں شرکت کے ساتھ مولانا سعیدالرحمان اعظمی ندوی انسٹی ٹیوٹ کی کتابوں پر مقدموں، پروجیکٹس کی تحریری و زبانی تائیدوں اور ادارے کی مجموعی خدمات کے اعتراف کے ذریعے بھی ادارے کی تقویت کا سامان کرتے رہے. انسٹی ٹیوٹ کے بڑے علمی منصوبوں كلمة الله هي العليا، لقد كرمنا بني آدم، اسوۂ حسنہ، اسلام کا علمی و ثقافتی ورثہ، چودہ صدیوں کی چودہ سو شخصیات اور منصوبہ المصطلحات الإسلامية کو اُن کی مختلف انداز سے سرپرستی حاصل رہی. آخر الذکر منصوبے کے تحت شائع ہونے والی پہلی کتاب أمة الوسط میں اُن کی تقریظ بھی شامل کتاب تھی. یہ تقریظ پورے منصوبے المصطلحات الإسلامية کی پر زور تائید بھی کرتی ہے اور منصوبے کے کنوینر مولانا خالد حسین ندوی کی ستائش بھی کرتی ہے. مولانا خالد حسین ندوی کو مولانا سعیدالرحمان اعظمی ندوی کا تلمذ بھی حاصل رہا اور وہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو میں داخلی انتظامات کے ذمہ دار بھی رہے. اس لحاظ سے وہ مولانا اعظمی اور انسٹی ٹیوٹ کے درمیان رابطے کے فرائض بھی بہ حسن خوبی نبھاتے رہے. انسٹی ٹیوٹ کے طباعتی ادارے قاضی پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز سے مولانا کی اہم کتاب "اسلام اور مغرب" بھی شائع ہوئی اور بہت مقبول ہوئی. بہت عجیب اتفاق ہے کہ اپنی وفات سے ٹھیک ایک سال پہلے یعنی 7 اکتوبر 2025 کو مولانا کی جانب سے انسٹی ٹیوٹ کے ایک علمی منصوبے کے لیے تائیدی تحریر موصول ہوئی تھی، افسوس ! ٹھیک ایک سال بعد 7 اکتوبر 2026 کو مولانا اس دنیا سے رخصت ہوگئے.

انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے ساتھ مولانا سعیدالرحمان اعظمی ندوی کے گہرے رابطے کی توسیع اس طرح بھی ہوئی کہ انسٹی ٹیوٹ نے پانچواں کارنامۂ حیات انعام (Life time achievement award) اُن کی خدمت میں پیش کیا. مولانا نے اس ایوارڈ کو قبول فرما کر اس ایوارڈ کے سلسلے کو بھی تقویت پہنچائی اور انسٹی ٹیوٹ کی نیک نامی میں بھی اضافہ فرمایا. تفویض انعام کی باوقار تقریب کانسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی میں 15 فروری 2013 کو منعقد ہوئی تھی.

2023 میں مرشدالامت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے رحلت فرمائی تو ڈاکٹر محمد منظور عالم کی ہدایت پر ایک وفد تعزیت کے لیے لکھنؤ بھیجا گیا. اس وفد میں جناب محمد عالم، جناب عطاء الرحمن اور راقم سطور شامل تھے. ناظم ندوۃ العلماء مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی اور ناظر عام مولانا سید محمد جعفر مسعود حسنی ندوی سے ملاقاتوں کے ساتھ ہم نے مولانا سعیدالرحمان اعظمی ندوی سے بھی ملاقات کی. ان کی خدمت میں حاضری ہوئی تو ان کو مرشدالامت کی وفات پر سخت مضمحل پایا. لیکن جب ان کو انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں سے واقف کرایا اور کچھ کتابیں پیش کیں تو مولانا کافی کِھل گئے. کافی دیر تک گفتگو فرماتے رہے. دعاؤں کی سوغات کے ساتھ ہمیں رخصت کیا.

مختصر یہ کہ دوسرے بہت سے اداروں کی طرح انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کو بھی یہ فخر حاصل ہے کہ اُسے مولانا ڈاکٹر سعید الرحمان اعظمی ندوی کی سرپرستی اور تائید حاصل رہی. اسی لیے انسٹی ٹیوٹ میں مولانا کے حادثۂ وفات پر اسی طرح غم محسوس کیا گیا، جیسا غم اپنے کسی بڑے اور سرپرست کی وفات پر محسوس کیا جاتا ہے. دعا ہے اللہ تعالیٰ چند ماہ کے فاصلے سے رخصت ہونے والے انسٹی ٹیوٹ کے دونوں بزرگوں ڈاکٹر محمد منظور عالم اور مولانا سعیدالرحمان اعظمی ندوی کو مغفرتِ تامہ اور رحمتِ کاملہ عطا فرمائے اور ان کی علمی، دینی، ملّی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے. آمین

(مضمون نگار آل انڈیا ملی کونسل کے اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری ہیں)