نام بدلنے کی فرقہ وارانہ مہم کا مقابلہ

شاہ اجمل فاروق ندوی

گزشتہ ایک دہائی سے ہندستان میں چلنے والی ہندوتوا کی تحریک ملک کو مختلف زاویوں سے کھوکھلا کر رہی ہے. ان میں سے ایک زاویہ ناموں کو تبدیل کرنے کا بھی ہے. ہندوتوا ایک بنیاد پرست، تنگ نظر اور تشدد پسند نظریہ ہے. اس سے اس بات کی توقع تو کی ہی نہیں جاسکتی کہ وہ مسلم دورِ حکومت میں رکھے گئے ناموں کو برداشت کرنے کا ظرف دکھا سکے گا. لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اس نظریے کے حاملین کو انگریزوں کی دل و جان سے غلامی کرنے کے باوجود انگریزوں کے رکھے ہوئے ناموں سے بھی وحشت ہونے لگتی ہے. ان لوگوں کو انگریزوں کے چلے جانے بعد جب انگریزوں پر غصہ آتا ہے تو بمبئی کا نام ممبئی اور مدراس کا نام چنئی کردیا جاتا ہے. مسلم دورِ حکومت کے خاتمے کو سو سال گزر جانے کے بعد جب مسلم حکمرانوں سے بیزاری ہوتی ہے تو مغل سرائے کا نام پنڈت دین دیال اپادھیائے نگر اور الہ آباد کا نام پریاگ راج کردیا جاتا ہے. حد تو یہ ہے کہ پاکستان کے ایک سر پھرے صحافی کی تحریک پر سلطان اورنگ زیب عالم گیر کے نام سے منسوب سڑک کا نام بھی بدل دیا جاتا ہے.

ناموں کی تبدیلی کی اس فرقہ وارانہ مہم پر جب ملک و بیرون ملک میں سوال اٹھتے ہیں تو اس کی دو وجہیں پیش کی جاتی ہیں. ایک یہ کہ یہ نام ہمیں عہدِ غلامی کی یاد دلاتے ہیں. دوسرے یہ کہ اہم جگہوں کے ناموں کے ذریعے مجاہدینِ آزادی اور دیگر خادمانِ قوم کو بہترین خراج پیش کیا جاسکتا ہے. یہ دونوں باتیں اُس وقت بے معنی ہوکر رہ جاتی ہیں جب اترپردیش میں گورکھ پور کے اردو بازار کا نام بدل کر ہندی بازار اور مدھیہ پردیش میں برکت اللہ یونی ورسٹی کا نام بدل کر واگ دیوی بھوج پال یونی ورسٹی کردیا جاتا ہے. کیا اردو زبان یا مولوی برکت اللہ بھوپالی کا تعلق بھی انگریزوں یا مسلم حکمرانوں سے تھا؟ معلوم ہوا کہ یہ سب فرقہ پرست اور انتہائی تنگ ذہنیت کے ذریعے سیاسی روٹیاں سینکنے کی مہم ہے. آزادی، وطن دوستی یا خادمانِ وطن کی قدر افزائی سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے. اس لیے بعید نہیں کہ یکے بعد دیگرے فیض آباد کو ساکیت، علی گڑھ کو ہَری گڑھ، مظفر نگر کو لکشمی نگر، اعظم گڑھ کو آریَم گڑھ، دیوبند کو دیو ورند کردیا جائے. جس دن ان میں سے کسی جگہ کے نام کی تبدیلی کسی ہندوتوا وادی لیڈر کو بڑا سیاسی فائدہ پہنچانے والی ہوگی، اس کا نام بدل دیا جائے گا. جب کوئی انسان اپنی عقل پر تالا ڈال کر الٹی گنگا بہانے پر تُل جائے تو اُسے کون روک سکتا ہے؟

سوال پیدا ہوتا ہے کہ نام بدلنے کی اس فرقہ وارانہ مہم کا مقابلہ ایک سلیم الفطرت ہندستانی اور خاص طور پر مسلمان کس طرح کرسکتا ہے؟ اس سوال پر غور کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ ناموں کی اس تبدیلی سے ملت اسلامیہ اور ہندستانی تاریخ و تہذیب کا کیا نقصان ہوگا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مذموم مہم آنے والی نسلوں کے ذہنوں سے مسلم تاریخ اور ہندستانی تہذیب کے فطری ارتقا کو مٹانے کا سبب بن سکتی ہے. لہٰذا اس مہم کے مقابلے کے لیے سب سے ضروری کام وہی ہے جس کے ذریعے اس ممکنہ خلا کو پُر کیا جاسکتا ہے اور مسلم تاریخ اور ملکی تہذیب کو اس کی اصل شکل میں باقی رکھا جاسکتا ہے. خاص طور پر ہم مسلمانوں کو اپنی تاریخ کی حفاظت خود ہی کرنی ہوگی. کسی کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہماری شخصیات یا ہماری تاریخ کو زندہ رکھنے کی کوشش کرے؟ اگر ہم خود اپنی تاریخ کی حفاظت کی فکر کریں گے تبھی ہمارے ساتھ غیر فرقہ پرست غیر مسلم آئیں گے. بغیر ہمارے اقدام کے کوئی ہمارے ساتھ آکر کھڑا ہونے والا نہیں ہے. اس لیے اس سلسلے میں کرنے کا سب سے اہم کام یہی ہے کہ ہم اپنی تاریخ کی حفاظت کی فکر کریں.

اس ذیل میں ممکنہ ترتیب یہ ہوسکتی ہے کہ جن مسلم شخصیات کے ساتھ ظالمانہ اقدامات کیے جارہے ہیں سب سے پہلے اُن کو اپنی نئی نسلوں کے لیے زندہ رکھنے کی فکر کی جائے. حکومت ظلم پر تُلی ہوئی ہے تو ہم اپنے کالجوں، اسکولوں، رفاہی اداروں، محلّوں اور گلیوں کو اُن شخصیات کے نام سے منسوب کردیں. کیا سلطان اورنگ زیب عالم گیر، سلطان ٹیپو شہید اور مولوی برکت اللہ بھوپالی جیسی شخصیات اپنا نام زندہ رکھنے کے لیے کسی فرقہ پرست حکومت کی محتاج ہیں؟ اس طرح کی شخصیات ہندستانی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں. ہم ان کے عقیدت مند ہیں. اس لیے ہم ہی ان کے نام اور کام کو زندہ رکھیں گے. کیا بھوپال یا پورے مدھیہ پردیش کے مسلمان مل کر مولوی برکت اللہ کے نام سے منسوب ایک یونی ورسٹی بنانے کی طاقت نہیں رکھتے؟ کیا ہم اپنے پرانے اداروں اور مراکز کو ان شخصیات کے نام منسوب نہیں کرسکتے؟ اگر نہیں، تو پھر حکومتوں کے نام بدلنے پر ناراض ہونا بھی غلط ہے. اگر ہاں، تو نام بدلنے کی یہ فرقہ وارانہ مہم ہمارے لیے مکڑی کے جالے سے زیادہ حیثیت کی حامل نہ ہونی چاہیے. جن شہروں کے نام بدلے جارہے ہیں، اُن شہروں کی مسلم تاریخ کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا اہتمام ہونا چاہیے. جن مسلم شخصیات کو متنازع بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اُن کے متعلق تاریخ کی سچائیاں عام کرنی چاہئیں. علاقوں اور شخصیتوں کے تاریخ کو محفوظ کرنے کی یہ مہم تحقیقی کتابوں، علمی مذاکرات، ہندو مسلم اسکالرز پر مشتمل مجالس گفتگو، دستاویزی فلموں، ناولوں اور افسانوں، غرض یہ کہ ہر ممکن اور مؤثر طریقے کے ذریعے چلائی جانی چاہیے.

پہلے مرحلے میں فرقہ پرستوں کے نشانے پر آنے والے مقامات و رجال کی تاریخ کا تحفظ کرنے کے بعد ہمیں مسلم دورِ حکومت کی اُن عظیم حصول یابیوں کو مذکورہ وسائل کے ذریعے منظر عام پر لانے کی فکر کرنی چاہیے جنھیں تاریخ کے صفحات سے غائب کر دیا گیا ہے. اسی طرح ایک مخصوص ترتیب کے ساتھ مذہبی، سیاسی، تعلیمی، سماجی، سائنسی، قانونی، صنعتی اور عسکری خدمات انجام دینے والی مسلم شخصیات کو بھی مذکورِ بالا طریقوں کے ذریعے محفوظ کرنے کی تحریک چھیڑنی چاہیے. الحمد للہ آج کے گئے گزرے دور میں بھی ہماری جماعتوں، تنظیموں، اداروں اور افراد کے پاس اسباب و وسائل کی کمی نہیں ہے. اگر مختلف ملکی یا علاقائی افراد و ادارے اپنے اپنے علاقوں اور شخصیتوں کی تاریخ کے تحفظ کا بیڑا اٹھا لیں تو یہ کام زیادہ جلدی اور زیادہ آسانی سے ہوسکتا ہے. پھر فرقہ پرست ٹولہ نام بدلتا رہے گا اور اپنے منہ پر ذلت و نامرادی کی کالک پوتتا رہے گا.

(مضمون نگار آل انڈیا ملی کونسل کے اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری ہیں)