تعلیم کے بنیادی مقاصد
نقطہ نظر :ڈاکٹر محمد منظور عالم


- علم کی فطرت میں خیر اور بھلائی ہے ۔ علم ہر مشکل وقت میں انسان کی رہنمائی کرتاہے ۔ علم ہرزمانے میں پیش آنے والے مشکلات سے نمٹنے کیلئے معاون بنتا ہے ۔ جب بھی اور جس عہد میں بھی کوئی چیلنجز آتاہے تو اس کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور جرات عطاکرتاہے ۔ علم بنیادی طور پر صلاحیت اور قابلیت پیدا کرتاہے ۔ علم سے آراستہ ہونے کے بعد انسانی ذہن ودماغ میں وسعت اور کشادگی پیدا ہوتی ہے ۔ اسی کے بعد ریاست ،سماج اور معاشرہ کی ترقی ممکن ہوپاتی ہے ۔ علم نئے امکانات کیلئے دروازے کھولتاہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے سبھی مذاہب میں حصول علم کو بے پناہ اہمیت حاصل ہے ۔ اسلام نے حصول علم کو سب سے زیادہ اپنی ترجیحات میں شامل کیاہے ۔ قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہی اقراءباسم ربک ۔۔۔۔۔۔۔ کرکے بتایاگیا کہ علم سب سے اہم ہے ۔ قرآن کریم کی پہلی آیت اور پہلی سورت سورہ علق ہے جس میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو علم حاصل کرنے کا حکم دیاہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بذات خود علم کا مقصد کیاہے ؟۔ تعلیم سے مطلوب ومقصود کیا ہے؟ ۔ علم سے انسان میں کونسی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں؟ ۔

تعلیم کے مقاصد کی طویل فہرست ہے لیکن سب سے اہم یہ ہے کہ علم کے بعد انسان میں شعور پیدا ہوتاہے ۔ سمجھ بوجھ کی صلاحیت اس میں پیدا ہوتی ہے ۔ علم سے اولین مطلو ب یہ ہے کہ انسان اپنے خالق کو پہچانیں ۔ اپنی تخلیق کے مقصد کو جانیں ۔ اپنے پروردگار کو جانیں ۔ اس کی پیدائش کا مقصد کیاہے ۔ کیوںکہ خالق کائنات نے انسان کو پیداکیاہے ۔ اس بارے میں بھی غور وفکر کرے کہ اس دنیا کا خالق کون ہے ۔ زمین وآسمان کا بنانے والا کون ہے ۔ کیوں کائنات کی ہر شی انسانیت کو فائدہ پہونچانے کیلئے بنائی گئی ہے ۔ انسان کی حیثیت کیاہے کیوں تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ ترجیح اور اہمیت انسانوں کو دی گئی ہے ۔ علم آنے کے بعد ایک انسان ان چیزوں کے بارے میں سوچتاہے ، غور وفکر کرتاہے اور یہی علم کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے؟ ۔

علم معتدل اور صالح معاشر ہ کی تشکیل میں بھی نمایاں کردار ادا کرتاہے ۔ سما ج اور معاشرہ لوگوں کے وجود سے تشکیل پاتاہے ۔ معاشرہ اگر نیک،اعتدال پسند اور صالح ہوتاہے تو انسانیت کی ترقی ہوتی ہے ،وہ معاشرہ قابل فخر بنتاہے اور معاشرہ میں کوئی کمی خامی ، کوتاہی پائی جاتی ہے تو وہ پھر معاشرہ دنیا کیلئے ناسور بن جاتاہے ۔ سماج میں برائیوں کو وجود ملتاہے ۔ اچھائیوں کے بجائے صرف برائیوں پر توجہ رہتی ہے ۔ اس سے تخلیق انسانیت کا مقصد بھی فوت ہوتاہے ۔ اللہ تبارک وتعالی کی ناراضگی کا سبب بنتاہے ، جہالت کی وجہ سے گمراہی پیدا ہوتی ہے اور پھر انسان اپنی تخلیق کے اصل مقصد کو فراموش کرکے دنیا کی چند دنوں کی عارضی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتاہے اور پھر اسی کو بہتر بنانے کیلئے آپس میں قتل وغارت گری شروع کردیتاہے ۔ ایک دوسرے کے خون کا پیا سا بن جاتاہے کوئی دولت کے حصول میں تمام حدوں کو پار کرنے کی کوشش کرتاہے ۔ کوئی حکومت اور طاقت کے حصول کیلئے حد سے تجاوز کرتاہے ، کوئی خاندانی عصبیت کا شکار ہوجاتاہے اور خود کو سب سے قابل سمجھ لیتاہے اور پھر یہیں سے معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہوجاتاہے ۔ ایک دوسرے کے خلاف حسد ،جلن کی شروعات ہوتی ہے اور معاملہ میدان جنگ میں تبدیل ہوجاتاہے ۔ ایک خاندان دوسرے خاندان کے خون کا پیاسا بن جاتاہے ۔ بھائی بھائی کے قتل سے بھی دریغ نہیں کرتاہے ۔ امن وسکون تباہ وبرباد ہوجاتاہے اور یہ سب علم کے فقدان کا سبب ہوتاہے ۔ علم نہ ہونے کی وجہ انسان معاشرہ کو برائیوں کے دلدل میں پھنسا دیتاہے ۔

علم کے بنیادی مقاصد میں انسانی آزادی بھی شامل ہے ۔ جب انسان کے پاس علم کی دولت ہوتی ہے تو وہ اپنی آزادی کو ضرروی اور لازم قرار دیتاہے ۔ اپنی مرضی سے سوچنے ،سمجھنے ،اظہار خیال کرنے اور زندگی گزار کو اپنا بنیادی حق سمجھتاہے لیکن جب معاشرہ علم سے محروم ہوتاہے ، معاشرہ کے افراد علم سے لاتعلق ہوتے تو پھر اس وقت ایک طبقہ انہیں اپنا غلام بنانے کی کوشش کرتاہے ۔ ان کے ساتھ غیر انسانی رویہ اپناتاہے ۔ ان کی سوچ وفکر کو ختم کرے اپنا احکامات کے تابع بنالیتاہے ۔ انسان کی اپنی سوچ ، اپنی فکر ناپیدہوجاتی ہے ۔ اس کی حیثیت محض ایک جانور نماایک غلام کی ہوجاتی ہے ، ایسی زندگی کا صرف ایک مقصد بنادیاجاتاہے اور وہ ہے اپنے آقا کی آنکھ بند کرکے اطاعت ، ان کے ہر حکم کو بجالانا، ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا ۔

غلامی کی زنجیر میں جکڑ نے کی بنیادی وجہ علم سے محرومی ہوتی ہے جب انسان تعلیم یافتہ ہوتاہے تو وہ اپنے بارے میں ،اپنے مستقبل کے بارے میں ۔ ار گرد کے حالات کے بارے میں سوچتاہے ۔ آزادانہ فیصلہ لیتاہے ۔ اپنی زندگی پر سب سے پہلے اپنا حق سمجھتاہے اور کسی بھی انسان میں آزادی کی یہ صفت علم کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ دنیا بھر میں غلاموں کو علم حاصل کرنے سے روکاگیا۔انہیں علم سے محروم کیاگیا اور جس کسی نے بھی علم حاصل کرلیا اس نے اپنی غلامی کے خلاف آواز بلند کی ۔ انسانی پامالی کے خلاف تحریک چلائی اور اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشرہ میں آزادی حاصل کرنے کی کوشش کی ۔

علم سے آراستہ ہونے کے بعد انسان میں ایک ایسا شعور پیدا ہوتاہے جس سے وہ معاشرہ کو خو شحال ، کامیاب اور قابل تقلید بنانے کی منصوبہ سازی کرتاہے ۔معاشرہ کے صالح اقدار کے خلاف پائی جانے والی سرگرمیوں کے خلاف بر سرپیکار ہوجاتاہے۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرتاہے اور مظلوموں کا ساتھ دیتاہے۔ معاشرہ میں عموما یہ مزاج پایاجاتاہے کہ انسان دوسروں کو حقیر سمجھتاہے ۔ جن کے پاس دولت ہوتی ہے وہ دوسروں کو کمتر اور حقیر سمجھنے لگتے ہیں اور خود کو سب سے مہذب خیال کرتے ہیں ۔ کچھ لوگ خاندانی حسب ونسب کی وجہ سے غرور کرتے ہیں ۔ ان کا یہ خیال ہوتاہے کہ وہی سب سے افضل اور سپریمو ہیں ۔ ان کا خاندان اعلی اور تہذیب یافتہ ہے ۔ ان کے علاوہ دوسروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ،دوسرے لوگ کمتر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انسانی احترام میں وہ دیگر انسانوں سے ممتاز اور فائق ہیں اورپھر وہ دوسروں پر ظلم کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ انہیں اپنے ظلم وستم کا تختہ مشق بنالیتے ہیں ۔انہیں کمزور ، بے بس اور لاچار سمجھ کر ہر طرح کا ظلم کرنا اپنا خاندانی امتیاز اور فخر سمجھتے ہیں لیکن اسی معاشرہ میں جو لوگ علم کی دولت سے آراستہ ہوتے ہیں وہ اس ظلم کے خلا ف آواز اٹھاتے ہیں ۔ مظلوموں کا ساتھ دیتے ہیں اور ظالموں کو ظلم کرنے سے روکتے ہیں اور یہ خوبی علم کے بعد پیداہوتی ہے اور یہ ایک تعلیم یافتہ انسان کی پہچان سمجھی جاتی ہے ۔

حصول علم کے بعد انسانی قلب میں نمایاں تبدیلی آتی ہے ۔ مادیت پر انحصار کرنے کے بجائے انسانیت کے بارے میں سوچنے کا مزاج پیدا ہوتاہے ۔ علم انسان میں حفظ خودی کی خوبیاں پیدا کر تاہے۔ علم انسان کو توحید، عشق خداوندی، بلند ہمتی، سخت کوشی، پاک دامنی، فقر، رواداری، اعتدال،کمزوروں کی مدد ، ظالموں کے خلا ف جنگ اور درویشی قناعت جیسی صفات سے آراستہ کرکے ایک مثالی انسان بناتاہے ۔ انسانی معاشرہ خوشگوار بنتاہے اور یوں علم کا ایک واضح مقصد ہمارے سامنے آتاہے ،یہیں اس بات کا بھی علم ہوجاتاہے کہ آخر اللہ تعالی نے کیوں حصول علم پر اتنازیادہ زور دیاہے؟ ، کیوں ہرمذہب میں علم کے حصول کی اہمیت بتائی گئی ہے؟ اور کیوں علم کی فضیلت عظمت بیان کی گئی ہے؟ ۔ کیوں علم انسانی تعظیم کا سبب قرار دیاگیاہے ؟۔

خلاصہ کلام یہ کہ تعلیم کا مقصد انسان بگاڑ کی اصلاح کیلئے تیار کرنا بھی ہے اور اسے ایسے سانچے میں ڈھالنا بھی کہ وہ خود کو مفید شہری بنا کر صالح ومعتدل معاشرے کووجود میں لانے میں مددگاربنے ۔ ظلم کے خلاف بر سرپیکار رہے ۔انسانوں کو غلامی کی زنجیر سے آزادی دلائے ۔ ان سب کے ساتھ تعلیم کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ ایک انسان اپنے خالق کو جانے ، اپنی تخلیق کے مقصد کوسمجھے اس میں یہ شعور پید ا ہوسکے اور وہ خودی کی تقویت اور استحکام جیسی صفات سے آراستہ ہوجائے ۔
چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی