عوامی امنگیں، مسلم مسائل اور کیجریوال
ڈاکٹر محمد منظور عالم
دہلی اسمبلی الیکشن جمہوریت کے تقاضوں کے مطابق مکمل ہوا اور آزاد ہندستان میں ایک عظیم الشان تاریخ بنائی جس میں دہلی کے عوام نے تذبذب، چھوٹے موٹے مفاد ات اور تحفظات سے بلند ہوکر عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ ایسا کرتے ہوئے نہ وہ کسی کے دباؤ میں آئے نہ کسی کے بیان سے متاثر ہوئے جس کا نتیجہ 10فروری 2015کو ساری دنیا میں تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا اور دہلی کے شہریوں کو ایسا لگا کہ جیسے دوسری آزادی ملنے پر خوشی حاصل ہورہی ہو۔ فطری طور پر ان نتائج کی بنیاد پر یہاں کے عوام کے ایک نئے خواب، نئے جذبات اور نئے عزم کے ساتھ دیکھنے لگے اور اس خواب کو پورا کرنا کیجریوال کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ماحول کو سازگار، ماحول اور عوام کے اندر اعتماد، بالخصوص نوجوانوں کے اندر اعتماد کے ساتھ تعمیری کاموں میں ان کو شامل کرنا اور ایک دوسری تاریخ پانچ سال کے اندر بنانا ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ یاد رہے جو لوگ تاریخ سازی کو صرف سینے سے لگائے رکھتے ہیں تو تاریخ انھیں بھلا دیتی ہے یا جیسے وہ آتے ہیں ویسے ہی نکال دیتی ہے چونکہ تاریخ صرف سینے سے لگائے رہنے سے مکمل نہیں ہوتی وعدے پورے نہیں ہوتے بلکہ ہر دن کو تاریخ ساز بناتے چلیں تو تاریخ بنتی رہتی ہے اور نقوش گہرے بنتے چلے جاتے ہیں جسے بھلائے بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔
اس الیکشن کے نتائج پر میڈیا کو بھی مبارکباد دینے کا جذبہ امڈ رہا ہے۔ پورے ایک سال بعد میڈیا نے بی جے پی کے ساتھ دوسری سیاسی پارٹیوں کو بھی جگہ دی اور بہت حد تک ایمانداری کے قریب رہتے ہوئے ان باتوں کو پیش کرتا رہا جسے سچ کہا جاسکتا ہے۔ توقع یہی ہے کہ میڈیا 2014کے لوک سبھا انتخابات کے موقع پر اختیار کی گئی یک طرفہ روش کو ترک کرتے ہوئے 2015کے دہلی اسمبلی الیکشن میں جو روش اختیار کی ہے اسے نہ صرف قائم رکھے گا بلکہ اسے مزید بڑھانے کی کوشش بھی کرے گا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جمہوریت کے رکھوالے یہاں کے باشندے ہیں، رائے دہندگان ہیں وہاں میڈیا کا رول بھی اہم ترین ہے اور جب کبھی میڈیا اپنی ڈگر سے ہٹتا ہے، جمہوریت کو خطرہ لاحق ہونے لگتا ہے، قانون کی بالادستی واحترام بھی ٹوٹنے لگتا ہے اور دستور کی روح مجروح ہونے لگتی ہے اس طرح ہمارے ملک کی جمہوریت جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اس میں جہاں عوام کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے وہاں میڈیا اس کو مزید مضبوط کرنے میں مدد کرتا ہے۔
نئی حکومت کے سامنے بہت سارے چیلنج ہیں۔ مثلاً سڑکیں، بیت الخلاء، پانی، بجلی، صحت، تعلیم، روزگار اور سماجی تانے بانے، سماجی ترقی، تحفظ، دیہی ترقی، چند ہاتھوں کے بجائے عام لوگوں کو اقتدار میں شامل کرنا، انھیں فیصلہ سازی میں حصہ دار بنانا وغیرہ ہیں۔ یہ وہ چیلنج ہیں جس کے لیے بہت ساری تحریریں موجود ہیں اور اس کے لیے مشورے، طریقہ کار بھی آتے رہتے ہیں لیکن فطری طور پر ان مسائل پر حکومت کو مخاطب کرنا ہے۔ ان تمام چیزوں سے زیادہ جو پیچیدہ مسئلہ ہے وہ ڈھانچہ کی سطح پر بھید بھاؤ ہے۔ اندرونی تعصب ہے۔ یہ ہر سطح پر پایا جاتا ہے اور ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور اس کے نتیجہ میں مافیا کی جتنی بھی شکلیں ہیں خواہ وہ لیڈر اور پولیس کے مابین رشتہ ہو، شامل ہوتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں اچھی سے اچھی پالیسی اور اچھے سے اچھے ارادے بہتر سے بہتر اسکیمیں یا تو سورج کی روشنی نہیں دیکھ پاتی یا وہ سورج گرہن جیسی صورتحال سے گزرتی رہتی ہیں جس کا سب سے زیادہ خمیازہ ایک جانب اس ریاست اور ملک کو بالعموم بھگتنا پڑتا ہے اور بالخصوص کمزور طبقات خاص طور سے مسلم اقلیت کو بھگتنا پڑتاہے۔ اس کی فریادرسی کے لیے ایسی کوئی جگہ نہیں ہے چاہے وہ لیڈر ہو، بیوروکریٹ ہو، پولیس یا لاء اینڈ آرڈر کے ذمہ دارکی شکل میں ہوں نہیں پہونچ پاتی ہے اور نہ ہی حکومت کے وسائل تک ان کمزور طبقات او رمسلم اقلیت کی پہونچ ہوپاتی ہے، اور پولیس کا رویہ ان کمزور طبقات، اقلیتوں اور مسلمانوں کے ساتھ نہ صرف بھیدبھاؤ اور تعصب کا رہتا ہے بلکہ اس کے خلاف ظلم بھی کرتا ہے۔ بے قصوروں کو مختلف الزامات کے تحت سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا جاتا ہے اور ان معصوم لوگوں کو انصاف بھی نہیں مل پاتا کیونکہ عدلیہ کو بھی جو ثبوت ملنا چاہیے وہ سارے ثبوت جن ذرائع سے ملتے ہیں وہاں بھید بھاؤ اور تعصب میں ڈوبے ہوئے لوگ ہیں جس کے نتیجہ میں سالہا سال معصوم لوگ جیل کی کوٹھری میں بغیر جرم کے سزا پاتے رہتے ہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جسے نئی حکومت کو شفافیت، جواب دہی اور ایمانداری کے ساتھ حل کرنا پڑے گا، نئی حکومت سے روزمرہ کے جو معاملات ہیں ان میں دہلی کی عوام فطری طور پر یہ توقع کرتی ہے کہ اس پر جلد از جلد حکومت سنبھالتے ہی کارروائی شروع کریں گے مگریہ پانچ سال کا دور ہوگا۔ اس دور میں خرابیاں چھوٹی چھوٹی کھڑکیوں سے داخل ہوسکتی ہیں جیسے تعمیری کاموں کے لیے پولیس کا رویہ، محلہ کے لیڈر، مافیا گروہ وغیرہ سیاسی لیڈروں کو اپنے دام میں پھنسانے کی نئی نئی ترکیبیں سوچتے ہیں اور آپ پارٹی کو 67سیٹ دہلی کے عوام نے دیاہے۔ یہ گروہ ان میں سے بہتوں کو اپنا ہدف بناسکتی ہے۔ اس لیے ضٰرورت ہے کہ ان لیڈروں کو بھی بچانے کے لیے وارڈ سطح سے لیکر اسمبلی حلقوں کی سطح تک مختلف قسم کی کمیٹیاں تشکیل دیں جس میں شہری حصہ داری، این جی او کی حصہ داری، ریزیڈینس ویلفیئر ایسوسی ایشن (آر ڈبلیو اے)، ریسرچ اداروں کی حصہ داری وغیرہ کو بھی شامل کریں تاکہ برائیوں اور کرپشن کی کھڑکی کو بند کرنے میں آسانی ہو۔
جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے، ان کے بارے میں مختلف قسم کی اسٹڈی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ہوئی ہے۔ خاص طور سے سرکاری سطح پر سچر کمیٹی رپورٹ سبھی کو معلوم ہے۔ اس پر نئی حکومت فطری طور پر توجہ دے گی۔ غیر سرکاری سطح پر دہلی کے مسلمانوں کی صورتحال پر مبنی ایک رپورٹ ’’دہلی کے مسلم علاقوں میں بنیادی شہری سہولیات کی دستیابی‘‘ شائع ہوئی ہے۔ جس میں اعداد وشمار کی روشنی میں بتایاگیا ہے کہ مسلمانوں کی سرکاری حصہ داری میں کمی آئی ہے۔ اس سے حکومت کو اندازہ ہوسکتا ہے کہ کس طرح سے مسلمانوں کو پسماندہ کیا گیا اور انھیں پسماندہ رکھا گیا۔
دہلی کے اس الیکشن نے مر کزی حکومت کو یہ سبق اور پیغام دیاہے کہ ملک کی ترقی صرف نعروں سے نہیں ہوتی، بڑے بڑے وعدوں سے نہیں ہوتی، غلط بیانی کو خوبصورت لبادہ پہنانے سے نہیں ہوتی بلکہ دستور کی بالادستی کو قائم کرنے، بھید بھاؤ سے نکلنے، تعصب کو ختم کرنے، کسی کو اعلیٰ درجہ دینے کی حیثیت سے سلوک کرنے اور باقی لوگوں کو ادنی بناکر رکھنے سے ترقی نہیں ہوسکتی۔ تعجب تو اس بات پر ہے کہ صدر اوبامہ نے آئین کی دفعہ 25کے حوالے سے جاتے جاتے سبق یاد کرایا اور پھر انھوں نے واشنگٹن میں جاکر اس سبق کو مزید یاد کرایا اور ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے اس کی تشریح پیش کی تو ہمارے ارون جیٹلی جی جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ موجودہ حکومت میں مقابلۃً سب سے سمجھدار ہیں انھوں نے بھی کہاکہ یہ گمراہ کن ہے، جو ان کی سمجھداری سے میل نہیں کھاتا کیونکہ گمراہ کن اس وقت ہوتا جب حکومت اس کو روکنے کی کوشش کرتی اور تب یہ واقعہ ہوتا تو اس وقت اسے گمراہ کن کی شکل مانی جاتی۔ یہ بات واضح طور پر کہی گئی کہ مودی حکومت کی خطرناک خاموشی کا معنی یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے جس سے پورے ملک کے حالات خراب ہورہے ہیں یا تو حکومت آر ایس ایس اور ان کی ذیلی تنظیموں کے سامنے بے بس ہے جس پر ہمیں یقین نہیں یا پھر کھلی اجازت ہے کہ قانون آپ کا کچھ نہیں بگاڑے گا، اسے عام فہم زبان میں ایک طرح کی سازش سمجھی جاتی ہے۔ یہ الیکشن بی جے پی کو بھی موقع دے رہا کہ پارلیمنٹ جو قانون کا مندر ہے اس کی طرف واپس ہو اور دستور جس کا حلف لیا ہے اس کی روشنی میں عمل کرے اور عوام کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرے کہ ہم دستور کے پابند ہیں اور دستور میں کثرت میں وحدت کا جو فلسفہ ہے اس کے ہم پابند ہیں، تمام بھید بھاؤ اور تعصب کے خلاف آزادی فکر، آزادی عمل کی گارنٹی ہر کمیونٹی، مذہب اور زبان کے ماننے والوں کو دی ہے اس پر عمل پیرا ہوں گے۔ اگر نہیں تو آنکھوں پر پیلا چشمہ چڑھ جاتا ہے اور ہر چیز پیلی نظر آتی ہے۔ یہاں کی عوام کبھی کبھار جذباتیت میں بہک سکتا ہے لیکن ہمیشہ اسے نہیں بھٹکایا جاسکتا، اس سے وہ سبق لے اور سیکھے۔
دہلی کا رزلٹ سبھی سیکولر پارٹیوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ صرف سیکولرازم کے نعرے سے کمزور طبقات اور اقلیتوں کا اعتماد بحال اور برقرار نہیں رہتا ہے جس طرح کے مسائل سے گھرے ہوئے ہیں وہ حل نہیں کیے گئے تو ان لوگوں کے لیے عبرت کا کافی سامان ہے۔
(مضمون نگار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ہیں)




Back   Home